Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ قرض سمجھ کر لینے سے ادا ہوجائیگی؟

Answered by
مولانا محمد علی عطاری مدنی
Fatwa no.
7494-Pin
Issued
18 صفر المظفر 1446 /24 اگست 2024

Answer (beginning)

زکوۃ واپس لینا جائز نہیں ۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ : ایک شخص نے کسی مسکین کو زکوۃ کی نیست " سے قرض کہہ کر مال دیا تھا ، مدت دراز کے وہ شخص قرض سمجھ کر واپس دینے آیا ، اس وقت دینے والا مفلس ہو گیا تھا ، ایسی صورت بھی قرض دینے والا اس مال زکوۃ کو کھا سکتا ہے ؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا : جب کہ اس نے بہ نیت زکوۃ یہ رقم دی تھی، تو اسے واپس لینا جائز نہیں ، حدیث میں فرمایا : ” ولا تعد فی صد قتک“ (اور اپنا صدقہ واپس نہ لے) ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.