Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اذان کی منت کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 7704-Pin
- Issued
- 10 رجب المرجب 1447ھ /31دسمبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم اذان کی منت مانی تو پورا کرنا لازم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے محلہ میں اہلسنت کی مسجد ہے ، میں نے منت مانی تھی کہ میری نوکری لگ جائے ، تو وہاں ایک ماہ تک فی سبیل اللہ اذان دوں گا ، پھر میری جاب لگ گئی، تو مؤذن صاحب کی اجازت سے اذان دے رہا ہوں، لیکن کچھ اذانیں رہ گئی ہیں، تو ان کا کیا کفارہ ہو گا ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں رہ جانے والی اذانوں کی قضا یا کفارہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ اذان کی منت ، منت شرعی میں داخل نہیں کہ جسے پورا کرنا لازم ہو اور رہ جانے کی صورت میں قضا کا حکم ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.