Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فصل کے اخراجات نکالنے کے بعد کچھ نہ بچے تو عشر کا حکم
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9890-FSD
Answer (beginning)
سوال بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فصل کے اخراجات نکالنے کے بعد کچھ بھی نہ بچے تو کیا پھر بھی عشر ہوگا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر فصل کی پیداوار کے تمام اخراجات ایج ، کھاد، زرعی ادویات ، پانی وغیرہ ) اتنے زیادہ ہوں کہ فصل کے بعد زمیندار یا کسان کے لیے کچھ باقی نہ رہے، تو کیا اس صورت میں بھی عشر لازم ہوگا ؟ جواب قوانین شرعیہ کے مطابق فصل کی کل پیداوار پر عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے ، اس پر ہونے والے اخراجات مائنس نہیں کیے جائیں گے ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں، لہذا پوچھی گئی صورت میں پیج، کھاد اور زرعی ادویات وغیرہ کے اخراجات اگر چہ پیداوار سے بڑھ جائیں اور زمیندار یا کسان کو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.