Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انتقال کے بعد عقیقہ کرنا نیز شفاعت ملنا
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم مالی تنگی کی وجہ سے عقیقہ نہ کرنے پر بچے کی شفاعت نہیں ملے گی ؟ فوت شدہ کا عقیقہ کرنا کیسا ؟ سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا، لیکن پیدائش کے بعد وہ مسلسل بیمار رہا اور تقریباً ایک ماہ بعد اس کا انتقال ہو گیا ۔ مالی تنگی اور عدم استطاعت کی وجہ سے والدین اس کا عقیقہ نہ کر سکے ۔ بعد میں یہ بات سنی گئی کہ جس بچے کا عقیقہ نہ کیا جائے اور وہ فوت ہو جائے ، تو والدین اس بچے کی شفاعت کی فضیلت سے محروم رہتے ہیں۔ اب اگر کچھ عرصہ بعد مالی اسباب میسر آجائیں ، تو شرعا کیا حکم ہوگا ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.