Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قراءت میں لفظ بے معنی ہو جائے تو نماز ہوجائیگی؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9864-FSD
- Issued
- 26 رمضان المبارک 1447ھ / 16 مارچ 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم قراءت کی غلطی سے لفظ بے معنی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں دوران قراءت کبھی ایسی غلطی واقع ہو جاتی ہے جس سے معنی فاسد نہیں ہوتے ، بلکہ الفاظ مہمل (بے معنی) ہو جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ تو معلوم ہے کہ اگر قراءت کی غلطی سے معنی فاسد ہو جائیں تو نماز فاسد ہو جاتی ہے ، لیکن اگر غلطی کی وجہ سے معنی فاسد ہونے کے بجائے صرف مہمل ہو جائیں تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہو گا ؟ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.