Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کرائے کی دکان میں آگ لگ جائے تو مرمت کروانا کس کے ذمہ؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کرائے کی دکان میں آگ لگ گئی تو مرمت کروانا کس پر لازم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے کپڑے کا کاروبار کرنے کے لیے خالد سے ایک دکان کرائے پر لی ، دوماہ کے بعد شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دکان میں آگ لگ گئی، جس سے زید کا کافی کپڑا جل گیا ، اور دکان کی دیواروں اور چھت کو بھی نقصان پہنچا۔ اب خالد یہ کہتا ہے کہ دکان چونکہ زید کے پاس تھی، اس لیے دکان کی دیواروں اور چھت کی مرمت زید کروائے گا، جبکہ شاٹ سرکٹ ہونے میں زید کی کوئی کوتاہی ولا پرواہی نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.