Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کروانے کا حکم

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
1130-FAM
Issued
5 شوال المکرم 1447ء 25 مارچ 2026. دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کروانا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری بلڈ ٹیسٹ کی اپائنٹمنٹ رمضان میں ہے ، تو کیا اسے ہم اٹینڈ کر سکتے ہیں ؟ اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹے گا ؟ جواب روزے کی حالت میں خون نکلوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اتنی مقدار میں خون نکلوانا کہ جس سے کمزوری لاحق ہو اور روزہ پورا کرنا دشوار ہو جائے ، یہ مکروہ ہے ۔ ظاہر ہے کہ بلڈ ٹیسٹ میں عموماً اتنا خون نہیں نکالا جاتا جس سے کمزوری کا اندیشہ ہونے لگے ، لہذا روزے کی حالت میں بلڈ ٹیسٹ کروانے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.