Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا باپ مفلس اور دادا غنی ہو تو صدقۂ فطر کس پر؟
Answer (beginning)
سوال بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نابالغ بچے کا باپ مفلس ہو اور دادا غنی ہو، تو کیا دادا پر صدقہ فطر لازم ہو گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر نا بالغ بچوں کا باپ مفلس ہو، لیکن بچوں کا دادا غنی ہو، تو کیا نا بالغ بچوں کا صدقہ فطر بچوں کے دادا پر لازم ہوگا ؟ جواب صدقه فطر بیر آزاد، مسلمان ، مالک نصاب (یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی مالیت کے بقدر رقم یا کوئی سامان حاجت اصلیہ اور قرض کے علاوہ موجود ہو، اس پر واجب ہوتا ہے ۔ نابالغ بچے کا صدقہ فطر کس پر واجب ہو گا ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.