Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بے ساختہ قسم کھالی تو کفارہ ہوگا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم قسم کے الفاظ بے ساختہ زبان پر جاری ہو جائیں تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جن لوگوں کی زبان پر بغیر ارادے کے عادتاً بے ساختہ قسم جاری ہوتی ہے تو کیا یہ بھی لغو قسم ہوگی اور اس پر کفارہ ہوگا یا نہیں؟ جواب یمین لغو کی دو قسمیں ہیں : ایک تو یہ کہ ماضی یا حال کی کسی بات پر اپنے خیال کے مطابق سچی قسم کھائے مگر حقیقت میں وہ جھوٹی نکلے ، تو ایسی قسم "لغو ہے ۔ یہ وہ لغو ہے جس کو کتب فقہ کے متون میں بیان کیا گیا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.