Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں قراءت کی غلطی درست کرلی تو نماز ہو جائے گی؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
9752-FSD
Issued
06 شعبان المعظم 1447ء / 26 جنوری 2026 ء دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم نماز میں قراءت کی غلطی کو فورا درست کر لیا تو نماز کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے امام صاحب نے نماز مغرب کی پہلی رکعت میں "سورۃ القارعۃ " تلاوت کی ۔ جب یہ آیت پڑھی: "فَأَمَا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُه ، تو اس کے بعد ”فَأْمهُ هَاوِيَةٌ “ پڑھ دیا، لیکن فورا ہی توجہ ہو گئی کہ آیت درست نہیں پڑھی گئی ، لہذا فوراً دوبارہ درست طریقے سے یوں پڑھا : " فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ (6) فَهُوَ فِي عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ “ اور اس کے بعد بقیہ سورت پڑھ کر رکوع میں گئے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.