Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرائے پر دینے والے ڈیکوریشن کے مال پر زکوٰۃ

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کرائے پر چلنے والی کرسیوں ، ٹینٹ اور برتن وغیرہ پر زکوۃ کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک عرصے سے ایونٹ مینجمنٹ (Event Management) اور ڈیکوریشن کا کاروبار کر رہا ہے ۔ اس نے اس کا روبار کے لیے لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر کے ڈیکوریشن کا بہت سا سامان خرید رکھا ہے ، جس میں سینکڑوں کرسیاں ، میز ، مختلف اقسام کے ٹینٹ ، پر دے، برتن ، لائٹس اور قالین وغیرہ شامل ہیں ۔ زید کی دکان اور گودام میں موجود اس سامان کی مجموعی مالیت اس وقت تقریباً50لاکھ روپے ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.