Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منت کے عمرہ کے لیے کسی اور کو بھیج سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا منت کے عمرہ کے لیے کسی دوسرے کو بھیجنا جائز ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے منت مانی ہو کہ تمہیں منت مانتا ہوں کہ اگر فلاں کام ہو گیا تو میں ایک عمرہ کروں گا اور وہ کام پورا بھی ہو گیا، لیکن مصروفیات اور کچھ ستی کے باعث وہ عمرہ نہ کرسکا ، اور اب عُمر کے اس حصے میں آگیا ہے کہ بڑھاپے کے باعث خود عمرہ کرنے سے عاجز ہے ، تو کیا ایسی صورت میں اپنی طرف سے کسی دوسرے مسلمان کو عمرہ پر بھیجا جائز ہے ؟ اگر جائز ہے ، تو کیا اس طرح منت پوری ہوجائے گی ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.