Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے سرہانے قرآن پاک پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 0276-HAB
- Issued
- 30 جمادی الاخری 1445ھ /12 جنوری2024ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم میت کے پاس قرآن پاک پڑھنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ میت کے سرہانے قرآن پاک پڑھنا کیسا ؟ جواب میت کو غسل دینے کے بعد اس کے پاس قراءت کر نا بلا کراہت جائز ہے البتہ غسل سے پہلے اگر اس کا پورا بدن کسی کپڑے وغیرہ کرنا سے ڈھکا ہوا نہ ہو تو اس کے پاس تلاوت کرنا مکروہ ہے اور بدن کپڑے سے ڈھانپا ہوا ہویا دور بیٹھ کر قراءت کریں تو بلا کراہت جائز علامہ بدرالدین معینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ” وکرہ مالک قراءة القرآن عنده وأصحابنا كرهوا القراءة بعد موته حتى يغسل ترجمہ : امام مالک رحمہ اللہ کے ہاں حالت نزع…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.