Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

استنجاء کا یقین اور وضو میں شک ہو تو نماز پڑھنا کیسا؟

Answered by
ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
Fatwa no.
13814-Nor

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم استنجاء کا یقین اور طہارت میں شک ہو، تو پڑھی گئی نماز کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے جماعت سے تقریباً 1 گھنٹہ قبل استنجاء کیا، اس کے بعد وضو کیا یا نہیں؟ یہ زید کو یاد نہیں، لہذا زید اسی حالت میں جماعت میں شامل ہو گیا اور دوران نماز بھی اُسے یہی شک رہا کہ اُس نے وضو کیا تھا یا نہیں ۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں زید کی نماز درست ادا ہو گئی ؟ جواب کوئی شخص بے وضو تھا اُسے اس بات میں شک ہو کہ میں نے وضو کیا ہے یا نہیں ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.