Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وظائف میں قرآنی الفاظ بدلنا ناجائز ہے؟

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم وظیفے میں قرآن پاک کے لفظ کو تبدیل کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض بزرگان دین دعا یا وظائف میں قرآن کریم کی بعض آیات مبارکہ کے الفاظ خصوصاً اسمائے الہی کو تبدیل کر کے پڑھتے ہیں، جیسے رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا “ کو ” فَاتَّخِذُهُ كَفِيلًا “ کہہ کر پڑھتے ہیں، تو کیا شرعا یہ عمل جائز ہے ؟ جواب بلاشبہ قرآن مجید کے نظم و معنی میں دانستہ تبدیلی کرنا نا جائزو گناہ بلکہ بعض اوقات کفر بھی ہو سکتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.