Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا بلی کی خرید و فروخت جائز ہے؟
Answer (beginning)
الجواب المعتمد أنه محمول على مالا نفع فيه، أو: على أنه نهي تنزيه حتى يعتاد الناس هبته وإعارته "ترجمہ : بلی کی خرید و فروخت کے متعلق علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے ، علماء کرام کے ایک گروہ نے اس کی بیع (خرید و فروخت) اور اس کی قیمت کے حلال ہونے کا قول کیا اور یہی جمہور کا قول ہے، یہی قول امام حسن بصری، محمد بن سیرین ، حکم ، حماد، امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب، امام شافعی ، امام احمداور امام اسحاق کا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.