Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز مکمل کرنے کے بعد رکعتوں میں شک ہونا
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9684-FSD
- Issued
- 25 جمادی الثانیہ 1447ھ /17 نومبر 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز مکمل کرنے کے بعد رکعتوں کی تعداد میں شک ہو تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے چار رکعت نماز ، جمعہ کی سنت مؤکدہ بعد یہ پڑھیں اور ان کو مکمل کر کے سلام پھیر دیا ، پھر دو سنتیں شروع کرنے کے لئے کھڑا ہوا، تو اسے یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید چار رکعت سنت میں سے تین رکعت پڑھی ہوں ، لیکن یہ محض خیال تھا، غالب گمان یہی تھا کہ چار مکمل کی ہیں ، پھر یہ شخص بقیہ نماز مکمل کر کے گھر چلا گیا ، تو کیا اس پر دوبارہ سے چار رکعت سنت مؤکدہ کی ادائیگی لازم ہوگی ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.