Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تہجد کے نوافل فجر کی سنت کے برابر ہوسکتے ہیں؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
9669-FSD
Issued
20 جمادی الاخرى 1447ھ /12دسمبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم تہجد پڑھتے ہوئے فجر کا ٹائم شروع ہو جائے تو سنتیں ادا ہو جائیں گی ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی نماز تہجد ادا کر رہا ہو اور اسی دوران فجر کا وقت شروع ہو جائے تو کیا وہ دو نفل تہجد ، سنت فجر کے قائم مقام ہو جائیں گے ؟ جواب سائل : محمد شہباز عطاری اگر کسی شخص نے فجر کا وقت داخل ہونے کے بالکل قریب تہجد کی نماز شروع کی اور دوران نماز فجر کا وقت شروع ہوگیا، تو وہ دور کعتیں ” تہجد " ہی قرار پائیں گی، "سنت فجر " کے قائم مقام نہیں ہوں گی ، لہذا جب تہجد کا سلام پھیر لے ، تو دو رکعت سنت الگ سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.