Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہوا خارج ہونے کے بعد استنجا ضروری ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
969-FAM
Issued
07 جمادی الاولی 1447 هـ / 30 اکتوبر 2025. علم الافتاء اهلسنت

Question

ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہوا خارج کرنے کے بعد استنجا کرنالازمی ہوتا ہے ؟ کیا بغیر اس کے نماز نہیں پڑھ سکتے ؟ جواب

Answer (beginning)

پچھلے مقام سے ہوا خارج ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ، لیکن جب اس کے ساتھ کوئی نجاست نہ نکلے تو استنجا کرنے کی ضرورت نہیں ، نماز کے لیے صرف نیا وضو کر لینا کافی ہے ۔ اس صورت میں استنجا کرنے کو لازمی جاننا غلط ہے؛ کیونکہ محض ہوا خارج ہونے کی وجہ سے استنجا کرنا سنت نہیں ، بلکہ بدعت ہے ۔ رئیس العلماء علامہ محمد عابد بن احمد سندھی مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات : 1257ھ /1841ء)لکھتے ہیں : ”فلا یسن الاستنجاء من ريح خارج من الدبر بغير بلل فان عينها طاهرة وإنما نقضت لانبعاثها من موضع النجاسة والاستنجاء منها بدعة “ ترجمہ : بغیر کسی تری کے پیچھے کے مقام سے خارج ہونے والی ہوا کی وجہ سے استنجا کرنا سنت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.