Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چندے کی رقم سے قبرستان کے لیے جگہ خریدنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 6103-Lar
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں اعوان ٹاؤن لاہور میں ایک سوسائٹی نے اپنا نجی بیت المال قائم کیا ہے جس میں زکوۃ وصدقات نافلہ، قربانی کی کھالوں کی رقوم مستحق افراد کے لیے اکٹھا کر کے سارا سال تقسیم کی جاتی ہیں۔ بیت المال اعوان ٹاؤن سوسائٹی کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ ان دنوں سوسائٹی قبرستان کے لیے جگہ خریدنے کے پروگرام بنارہی ہے جس کے لیے ممبر ان سوسائٹی سے رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے یہی مطالبہ انتظامیہ نے بیت المال کمیٹی سے بھی کیا ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں ہمیں اس معاملہ میں جواب عنایت فرمائیں کہ بیت المال کی وہ رقم جو ز کوۃ وصدقات نافلہ اور قربانی کی کھالوں کی قیمت کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے آیا ہم اس رقم کو قبرستان کے لیے جگہ خریدنے میں استعمال کر سکتے ہیں؟ جو
Answer (beginning)
سائل: ذوالفقار علی (لاہور) زکوۃ کی رقم قبرستان کی خریداری میں استعمال نہیں کر سکتے ، اسی طرح نفلی صدقات اور قربانی کی کھالوں کی وہ رقم مستحقین تک پہنچانے کے لیے اکٹھی کی گئی ہے قبرستان کی خریداری میں استعمال نہیں کر سکتے۔ ہاں جب زکوۃ کی رقم فقیر شرعی کو دے کر اسے مالک بنادیا اور وہ عاقل و بالغ ہے تو وہ اپنی مرضی سے قبرستان کی خریداری میں صرف کر سکتا ہے۔ اسی طرح نفلی صدقات اور قربانی کی کھالوں کی رقم جو ابھی تک مستحقین تک پہنچائی نہیں گئی وہ ابھی دینے والوں کی ملک پر باقی ہے اگر دینے والے اس رقم کو قبرستان کی خریداری میں صرف کرنے کی اجازت دے دیں تو ان کی اجازت سے اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.