Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے میں بڈیٹ سے استنجاء کرنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 963-FAM
- Issued
- 05 جمادی الاولی 1446ء 27 اکتوبر 2025. DaruliftaAhlesunnat
Question
روزے کی حالت میں بڈیٹ (Bidet) سے استنجا کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کینیڈا میں جہاں ہم رہتے ہیں ، ہم بڈیٹ (Bidet) استعمال کرتے ہیں ۔ بڈیٹ دراصل ٹوائلٹ سیٹ میں لگا ایک جدید آلہ ہوتا ہے جو پیشاب یا پاخانے کے بعد جسم کے نچلے حصے یعنی شرم گاہ کو صاف کرتا ہے ۔ میرا سوال یہ ہے کہ عام طور پر بڈیٹ کا پانی زور کے ساتھ نکلتا ہے ، جس کی وجہ سے تھوڑا سا پانی مخرج (مقعد) کے اندر چلا جاتا ہے اور فوراً دباؤ کے ساتھ باہر نکل آتا ہے ، تو کیا اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟ کیونکہ پانی معدے تک نہیں پہنچتا، صرف مخرج کے اندرونی حصے تک جاتا ہے اور فوراً باہر آجاتا ہے ۔ جواب
Answer (beginning)
مطلقاً پانی کے مقعد کے اندر جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک کہ پانی حقنہ (enema) کی جگہ تک نہ پہنچ جائے ۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب جان بوجھ کر اور ارادے کے ساتھ پانی یا دوا کو اتنی گہرائی تک پہنچایا جائے ۔ ہڈیٹ (Bidet) یا بینڈ شاور کے پانی میں اگر چہ دباؤ (pressure) ہوتا ہے ، مگر یہ دباؤ صرف بیرونی صفائی کے لیے ہوتا ہے ۔ اس کے عام استعمال سے پانی حقنہ کی جگہ تک کسی صورت نہیں پہنتا ، لہذا روزے کی حالت میں بڈیٹ یا بینڈ شاور کے عام استعمال سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، روزہ درست اور برقرار رہتا ہے ۔ خوامخواہ کے شکوک وشبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.