Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زندہ شخص کی طرف سے عمرہ کر سکتے ہیں؟

Question

کیا کسی زندہ شخص کے لیے عمرہ کر سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا زندہ شخص کے لیے عمرہ کر سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنا، در حقیقت اُسے عمرہ کا ثواب پہنچانا ہے۔ نیک اعمال کا ثواب جس طرح مردوں کو بخشا جا سکتا ہے ، اسی طرح زندوں کو بھی ثواب بخشا جا سکتا ہے۔ ثواب پہنچانے کے لیے مردوں کی تخصیص نہیں ۔ لہذا جس طرح فوت شدہ شخص کو ثواب پہنچانے کی نیت سے اس کی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے ، اسی طرح زندہ شخص کی طرف سے بھی عمرہ کیا جاسکتا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے مبارک فعل سے ثابت ہوتا ہے کہ عمل خیر کا ثواب زندوں اور مردوں سب کو پہنچایا جاسکتا ہے ۔ ایک حدیث مبارکہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام امت محمدیہ کی طرف سے قربانی کرنا ثا بت ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.