Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچہ گود لینے کے احکام

Question

بچہ گود لینے کے بارے میں شرعی احکام دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ گود لینے والے بچے کے حوالے سے کیا کیا احتیاطیں ہوتی ہیں ؟ اور وراثت میں گود لینے والے بچے کے حصے کا کیا حساب ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

بچہ گودلینا شرعی اعتبار سے ایک جائز عمل ہے لیکن گود لینے سے حقیقت نہیں بدلتی اور لے پالک بچہ و بچی بدستور اپنے ماں باپ کی ہی اولا در بستے ہیں ۔ البتہ جب کوئی شخص کسی بچے کو گو دیتا ہے تو یہ سمجھا جاتا بلکہ ایک قسم کا وعدہ اور عہد ہوتا ہے کہ اب اس بچہ کی پرورش ، تعلیم و تربیت اور ضروریات زندگی کا انتظام بھی وہی کرے گا۔ لہذا اس اعتبار سے گود لینے والے پر بچہ گود لینے کے بعد یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بچے کی پرورش، تعلیم اور اخلاقی تربیت کا پورا پورا اہتمام کرے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.