Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دونوں بیٹوں کے عقیقے میں دو بکرے کافی ہیں؟
Question
عقیقہ کرنے میں لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کتنے بکرے ہونے چاہیے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دو بیٹے ہیں اور میں نے نیت کی ہے کہ مجھے ان کا عقیقہ کرنا ہے ، البتہ میرے پاس زیادہ وسائل نہیں ہیں، تو کیا دونوں بیٹوں کی طرف سے دو بکرے قربان کر سکتی ہوں؟ جواب
Answer (beginning)
مستحب اور بہتر یہ ہے کہ لڑکے کے عقیقہ کے لیے دو بکرے یا دور نبے یا دو بکریاں یا بڑے جانور میں دوحصے شامل کیے جائیں، لیکن اگر دو کی بجائے ایک بکرا قربان کیا تو یہ بھی جائز ہے ۔ سنتِ عقیقہ ادا ہو جائے گی ۔ ایک روایت کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما کی طرف سے ایک ایک دنبہ ہی بطور عقیقہ ذبح فرمایا تھا، لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ دونوں بیٹوں کی طرف سے دو بکرے قربان کر سکتی ہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.