Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوسرے کی چیز مہنگی بیچ کر زائد نفع خود رکھنا

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
9579-FSD
Issued
01 جمادی الاولیٰ 1447 هـ / 24 اکتوبر 2025.

Question

دوست نے بیچنے کے لیے چیز دی تو مہنگی بیچ کر اس کا نفع خود رکھ سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مجھے میرے دوست نے اپنا موبائل بیچنے کے لیے دیا اور مجھے سے کہا کہ اسے 35 ہزار تک فروخت کر دو، میں نے وہ موبائل 37 ہزار میں بیچ دیا، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا میرا دوست کی بتائی ہوئی رقم سے زیادہ میں موبائل فروخت کرنا جائز تھایا نہیں ؟ نیز میں یہ اضافی دو ہزار خود رکھنا چاہتا ہوں ، کیا میں یہ رکھ سکتا ہوں یا نہیں ؟ نوٹ : یادر ہے کہ میں نے یہ کام بطور کمیشن ایجنٹ نہیں، بلکہ بلا معاوضہ کیا ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں آپ کا دوست کی بتائی ہوئی قیمت سے زائد میں موبائل بیچنا جائز تھا، لیکن اضافی دو ہزار روپے اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ آپ اپنے دوست کو موبائل کی مکمل رقم ادا کرنے کے پابند ہیں، کیونکہ تمام رقم کا حقدار وہی ہے ۔ وکیل بالبیع کا موکل کی بتائی ہوئی رقم کی زیادتی کے ساتھ چیز بیچنا جائز ہے اور یہ اس کی شرط کی خلاف ورزی نہیں ، جیسا کہ بسوط سرخسی میں ہے : "الوكيل بالبيع بألف إذا باع بألفين۔۔۔إذا حصل مقصود الآمر وزاد خيرالم یکن تصرفه خلافا“ ترجمہ : جس شخص کو کسی چیز کا ایک ہزار میں فروخت کرنے کا وکیل بنایا گیا ، پھر اس نے وہ چیز دو ہزار میں بیچ دی، تو یہ جائز ہے ) ۔ ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.