Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مکہ سے حضرت میمونہ کے مزار پر جا کر لوٹنے پر احرام کا حکم

Question

مکہ سے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے مزار پر جا کر واپس آنے پر احرام کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی زائر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مزارِ مبارک پر حاضری کے لیے جائے تو کیا واپسی پر احرام باندھ کر حرم شریف آنا ضروری ہے یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا مزار مبارک حدود حرم سے باہر مگر "حل میں ہے اور حکم شرعی یہ ہے کہ اگر کوئی زائریا حرم میں مقیم شخص جدہ ، تنعیم (مسجد عائشہ)، جعرانہ یا مزار سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا پر حاضر ہو تو اسے واپس حرم آتے ہوئے احرام باندھ کر آنا ضروری نہیں، کیونکہ یہ سب مقامات ”جل میں ہیں اور جل میں جا کر حرم واپس آنے والے پر اسی صورت میں احرام باندھنا لازم ہو تا ہے ، جب حرم آتے ہوئے حج یا عمرہ کا ارادہ ہو، لہذا اگر یہ ارادہ نہیں تو احرام باندھنا بھی ضروری نہیں ۔ اہل حل جب عمرہ کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو بلا احرام حرم آسکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.