Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اقامت کہنا کس کا حق ہے؟
Question
اقامت کہنے کا حق کس کو ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اقامت کہنے کا حق کس کو ہے ، نیز کیا امام خود اقامت کہہ سکتا ہے؟ جواب
Answer (beginning)
اقامت کہنا مؤذن کا حق ہے ۔ مؤذن موجود نہ ہو، تو جو چاہے اقامت کہ سکتا ہے ، لیکن ایسی صورت میں امام کا اقامت کہنا افضل ہے اور اگر مؤذن موجود ہو اور بلا اجازت کسی کے اقامت کہنے سے مؤذن کو ناگواری ہوتی ہو، تو کسی دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ و نا پسندیدہ عمل ہے ، چاہے دوسرا شخص امام ہو۔ ہاں ! مؤذن کو برانہ لکھا ہو یا اس کی اجازت ہو ، تو حرج نہیں۔ اقامت کہنا مؤذن کا حق ہے ، جیسا کہ "مصنف عبدالرزاق " ، "مصنف ابن ابی شیبه "، "مسند احمد "، "سنن ترمذی"، "سنن ابی داؤد “، ”سنن ابن ماجہ اور شرح معانی الآثار میں ہے : واللفظ للآخر: " عن زياد بن نعيم، أنه سمع زياد بن الحارث الصدائي قال : أتيت رسول الله صلى…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.