Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ بچے کا چالیسواں کرسکتے ہیں؟

Question

نابالغ بچے کا چالیسواں کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ دس سال کا بچہ انتقال کر جائے تو جس طرح بالغ افراد کا چالیسواں کیا جاتا ہے ، کیا اس بچے کا بھی چالیسواں کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

دس سال کے بچے کا چالیسواں کر سکتے ہیں کہ فوت شدہ مسلمان کا چالیسواں کرنا ، شرعی طور پر ایصال ثواب ہے اور دس سال کے بچے کو بھی ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے کہ جسے ایصال ثواب کیا جائے ، اس کے نیک یا گنہگار ہونے، نیز بالغ یا نا بالغ ہونے کی کوئی تخصیص نہیں ہے ، یعنی ایسا نہیں ہے کہ بالغ یا گنہگار کو ایصال ثواب کر سکتے ہیں، نابالغ (جیسے صورت مسئولہ میں دس سال کا بچہ) یا نیک کو ایصال ثواب نہیں کر سکتے ، بلکہ انسان اپنے ہر عمل کا ثواب دوسرے مسلمان کو ایصال کر سکتا ہے، البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ گنہگار کو ایصال ثواب کا مقصد مغفرت کی دعا ہے ، جبکہ نیک افراد کے لیے ایصال ثواب کا مقصد درجات کی بلندی اور مزید…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.