Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غلط تلفظ والے شخص کا اذان کہنا کیسا؟

Fatwa no.
9605-FSD
Issued
14 جمادی الاول 1447ھ /06 نومبر 2025ء

Question

جس کے تلفظ صحیح نہ ہوں ایسے شخص کا اذان کہنا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے تلفظ درست نہ ہوں اور اس سے الفاظ کے معنی تبدیل ہو جائیں، توکیا ایسا شخص اذان پڑھ سکتا ہے ؟ اگر وہ اذان کہہ دے، توکیا دوبارہ اذان کہی جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

جس کے تلفظ درست نہ ہوں اور اس وجہ سے کلمات اذان تبدیل ہو جائیں، تو ایسے شخص کا اذان پڑھنا، ناجائز وگناہ ہے ، لہذا ایسے شخص کو اذان کہنے اور اسے مؤذن مقرر کرنے کی ہر گز اجازت نہیں، لیکن اگر پھر بھی اذان دے ، تو وہ اذان نہ ہوگی، اس کو درست تلفظ کے ساتھ لوٹانا ہوگا ۔ جو شخص کلمات اذان میں تبدیلی کرے ، اس کا اذان دینا جائز نہیں ، جیسا کہ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے : " بحيث يؤدى الى تغيير كلمات الاذان و كيفياتها بالحركات والسكنات ونقص بعض حروفها او زيادة فيها فلا يحل فيه “ ترجمہ : اس طرح اذان دینا کہ کلمات اذان تبدیل ہو جائیں اور کلمات کی حرکات و سکنات میں بھی تبدیلی ہو جائے اور حروف…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.