Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شرعی معذور کا وقت نکلنے کے بعد قرآن چھونا
Question
معذور شرعی کا وقت گزرنے کے بعد قرآن پاک کو چھونا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شرعی معذور فجر کے وضو سے قرآن پاک کو بلا حائل چھو کر تلاوت کر رہا ہو اور اسی دوران سورج طلوع ہو جائے ، تو کیا وہ اسی فجر کے وضو سے اب بھی قرآن پاک کو بلاحائل چھوسکتا ہے ؟ یا اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
شرعی معذور سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کے وضو سے قرآن پاک کو بلاحائل نہیں چھو سکتا، کیونکہ شرعی معذور جب فرض نماز کا وقت ہو جانے پر وضو کر لے ، تو اس وضو سے وہ اس وقت کے دوران جتنی چاہے فرض و نفل نمازیں ادا کر سکتا ہے اور قرآن پاک کو بلا حائل چھو بھی سکتا ہے ، البتہ جب فرض نماز کا وقت ختم ہو جائے یا جس عذر کے سبب وہ معذور ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور ناقض وضو چیز پائی جائے ، تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، لہذا پوچھی گئی صورت میں فجر کا وقت ختم ہوتے ہی شرعی معذور کا وضو ٹوٹ جائے گا اور قرآن پاک کو بلا حائل چھونے کے لیے اسے دوبارہ وصنوکر نالازم ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.