Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عقیقہ میں جانور کی جگہ رقم صدقہ کرنا درست ہے؟

Question

عقیقہ میں جانور کی جگہ قیمت صدقہ کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عقیقہ میں جانور ذبح کرنے کی بجائے اگر جانور یا اس کی قیمت عقیقہ کی نیت سے صدقہ کر دی جائے ، تو کیا اس سے عقیقہ کی سنت ادا ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

عقیقہ میں جانور ذبح کرنا ہی ضروری ہے ، کیونکہ شرعی اصطلاح میں عقیقہ اسی عمل کو کہا جاتا ہے جس میں بچہ پیدا ہونے کے شکرانہ میں جانور ذبح کیا جائے ۔ احادیث طیبہ سے بھی ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے عقیقہ کے موقع پر جانور ذبح کرنے کا حکم فرمایا، نیز عقیقہ کے احکام، قربانی کے احکام کی طرح ہیں اور قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنا ہی لازم ہوتا ہے ، لہذا قربانی کی طرح عقیقہ میں بھی جانور ذبح کرنے کی بجائے جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرنے سے عقیقہ کی سنت ادا نہیں ہوگی ، البتہ جدا گانہ صدقہ کرنے کا ثواب مل جائے گا اور عقیقہ کی سنت اپنی جگہ باقی رہے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.