Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کے آگے سے گزرنا گناہِ صغیرہ ہے یا کبیرہ؟

Question

نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ کبیرہ یا صغیرہ ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی کے آگے سے گزرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ ؟ جواب سائل : غلام رسول (فیصل آباد)

Answer (beginning)

نمازی کے سامنے سے بغیر سترے کے گزرنا مکروہ تحریمی ، ناجائز اور گناہ صغیرہ ہے کہ فقہائے کرام نے صراحت فرمانی کہ ہر مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے اور اگر نمازی کے سامنے سترہ موجود ہو، اس کے باوجود کوئی شخص جان بوجھ کر سترے اور نمازی کے درمیان سے گزرے، تو یہ سخت مکروہ و گناہ ہوگا ، ہاں اگر کوئی شخص قصداً بار بار اس فعل کا ارتکاب کرے ، تو اس کے حق میں یہ فعل کبیرہ بن جائے گا، کیونکہ صغیرہ پر اصرار اسے کبیرہ بنا دیتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.