Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مدرسے کے چندے سے عملے کو قرض دینا کیسا؟

Question

مدرسے کے چندے سے مدرسے کے عملے کو قرض دینا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مدرسے کے عمومی چندے کی رقم سے مدرسے کے عملے ( جیسے مدرسین، خادمین وغیرہ) کو قرض دیا جا سکتا ہے، جبکہ وہ یہ رقم دو، تین ماہ کے اندر واپس کرنے کا کہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

مدرسہ کا چندہ دراصل ان اخراجات کے لیے دیا جاتا ہے جو مدرسہ کے عمومی امور سے متعلق ہوں ، مثلاً مدرسہ کی تعمیر و مرمت ، مدرسین و عملے کی تنخواہیں، طلبا کی ضروریات اور صفائی ستھرائی وغیرہ کے اخراجات۔ اسے انہی مصارف میں خرچ کرنا لازم ہے ۔ ذاتی استعمال میں لانا ، کسی کو بطور قرض دینا یا مصارف مدرسہ کے علاوہ کسی اور کام میں استعمال کرنا، ناجائز وگناہ ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مدرسے کے عمومی چندے کی رقم سے مدرسے کے عملے کو قرض دینے کی ہر گز اجازت نہیں۔ اگر کسی نے دیا، تو چندے کی جتنی رقم بطورِ قرض دی گئی، اتنی رقم کا تاوان مدرسہ کو ادا کر نالازم ہو گا اور اس سے سچی توبہ بھی کرنی ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.