Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماشاء اللّٰہ والی پٹی بے وضو چھونا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9583-FSD
- Issued
- 04 جمادی الاولی 1447ء 27 اکتوبر 2025.
Question
بازو پر ماشاء اللہ والی باندھی جانے والی پٹی کو بے وضو چھونا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں خواتین حجاب میں ایک پٹی استعمال کرتی ہیں ، جس پر قرآنی کلمہ "ماشاء اللہ لکھا ہوتا ہے ، یونہی مردوں کے لیے بھی پٹی آتی ہے ، جس کو بازو پر باندھا جاتا ہے ، اس پر بھی ماشاء اللہ " لکھا ہوتا ہے ، سوال یہ ہے کہ ایسے کپڑے یا پٹی کو بے وضو چھو سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
بیان کردہ صورت میں ایسی پٹی جس پر "ماشاء اللہ کے کلمات لکھے ہوں، اُسے بے وضو چھو سکتے ہیں ، شرعا اس میں گناہ نہیں، کیونکہ عموماً اس طرح کی چیزوں پر یہ کلمات آیت قرآنی کی حکایت کے طور پر نہیں، بلکہ حصولِ برکت یا کسی اور مقصد ، مثلاً نظر بد سے بچنے کے لیے لکھے جاتے ہیں، اس لیے ایسے کلمات جن کو ان مقاصد کے لیے لکھنے میں لوگوں کا تعامل ہو چکا ، ان کو بے وضو حالت میں چھونا ، گناہ نہیں ، ہاں وضو و طہارت کی حالت میں چھونا، بہتر ہے ۔ البتہ یہ یادر ہے کہ انہیں پہنے ہوئے بیت الخلاء میں جانا منع ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.