Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کا سال کب ختم اور کب نیا شمار ہوگا؟
Question
زکوۃ کے نصاب میں پیسے اور سونا تھا ، پھر پیسے ختم ہو گئے تو نصاب ختم ہونے کا حکم ہوگا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس دو تولے سونا تھا ، پھر کچھ اضافی رقم بھی مل گئی، جس کی وجہ سے یہ شخص صاحب نصاب ہو گیا، لیکن تقریباً سات ماہ کے بعد اس نے وہ رقم کسی ضرورت میں خرچ کر لی اور اس کے پاس دو تولہ سونے کے سوا کوئی مال زکوۃ باقی نہ رہا۔ اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد اس کے پاس دوبارہ سے کچھ رقم جمع ہو گئی ، جو کہ اس کی حاجت اصلیہ سے زائد تھی اور وہ رقم ابھی تک موجود ہے ، جس کو ملے ہوئے ابھی تقریباً چارماہ ہونے والے ہیں، جبکہ پہلی مرتبہ جب اضافی رقم جمع ہوئی تھی ، اس کو اب سال مکمل ہونے والا ہے ، تو اس حوالے سے رہنمائی فرما دیں کہ اس پر زکوۃ کی ادائیگی کب لازم ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں صاحب نصاب ہونے کے وقت سے ایک سال مکمل ہونے پر بھی، اگر وہ شخص صاحب نصاب ہو، تو سال مکمل ہوتے ہی اس پر زکوۃ ادا کرنا فوری طور پر لازم اور اس میں تاخیر کرنا شرع نا جائز وگناہ ہے، کیونکہ اصول یہ ہے کہ دوران سال، مال زکوۃ کے نصاب سے کم ہو جانے سے زکوۃ کے سال کا حساب ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اسی حساب سے سال پورا ہونے پر صاحب نصاب ہونے کی صورت میں زکوۃ دینا لازم ہوتا ہے ، البتہ اگر مال زکوۃ مکمل طور پر ختم ہو جائے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے ، تو اس صورت میں اس سال کا اعتبار ساقط ہو جائے گا اور دوبارہ صاحب نصاب ہونے کی صورت میں نیا سال شمار ہوگا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.