Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شادی میں میوزک کیلئے ساؤنڈ کرائے پر دینا کیسا؟

Question

شادی بیاہ پر میوزک چلانے کا کام یا کرائے پر دینا کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ساؤنڈ سٹم کی دکان بنائی ہے اور خود ساؤنڈ آپریٹنگ بھی کر لیتا ہے ، وہ صرف دینی محافل میں اپنا ساؤنڈ سٹم لیکر جاتا ہے ، ابھی شادیوں کا سیزن چل رہا ہے تو لوگ اس کے پاس آتے ہیں کہ ہمیں شادی پر مہندی کی رات میوزک چلانے کے لئے اپنا ساؤنڈ سسٹم کرایہ پر دیں اور ساؤنڈ آپریٹنگ کرنے کے لئے خود بھی ساتھ آئیں تاکہ آپ کے ساؤنڈ سٹم کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو ، ہم آپ کو ایک رات کی اُجرت دینگے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا زید شادی بیاہ پر میوزک چلانے کے لئے خود اجیر بن سکتا ہے ؟ اور اس کام کے لئے اپنا ساؤنڈ سٹم کرایہ پر دے سکتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

شادی بیاہ یا اس کے علاوہ کسی بھی موقع پر میوزک چلانا اور سننا شرعانا جائز و حرام اور گناہ کا کام ہے کہ مروجہ گانے مزامیر (آلات موسیقی) پر مشتمل ہوتے ہیں، اور قرآن و حدیث میں مزامیر سے منع فرمایا گیا ہے ، یہاں تک کہ حدیث پاک میں ہے کہ گانے سے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے ، صورت مذکورہ میں چونکہ زید کا شادی بیاہ پر میوزک چلانے کے لئے بطور ساؤنڈ آپریٹر اجیر بنا معصیت پر اجارہ کرنے اور معصیت پر تعاون کرنے جیسے گناہوں پر مشتمل ہے، لہذازید کا شادی بیاہ پر میوزک چلانے کے لئے اجیر بننا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ کا کام ہے ، نیز اس کام سے حاصل ہونے والی کمائی بھی زید کے لئے حلال نہیں ہوگی کہ ناجائز کام…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.