Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا گناہ گار بھی نیکی کی دعوت دے سکتا ہے؟

Question

دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے کے لیے خود کا با عمل ہونا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل یہ جملہ بولا جاتا ہے کہ "ہم تو خود گناہ گار ہیں دوسروں کو کیا نیکی کی دعوت دیں"۔ مجھے یہ رہنمائی چاہیے تھی کہ اس جملے کی کیا حقیقت ہے ؟ کیا دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے کے لیے خود کا با عمل ہونا ضروری ہے ؟ یا خود کے عمل میں کمزوری ہونے کے باوجود بھی دوسروں کو نیکی کی دعوت دے سکتے ہیں ؟ تفصیلار ہنمائی فرمادیں ۔ جواب

Answer (beginning)

نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا امت محمدیہ کے نمایاں اوصاف میں سے ایک وصف ہے ، اسی عظیم خوبی کے سبب خالق کا ئنات عزو جل نے اس امت کو سب سے بہترین امت قرار دیا، تو جس طرح ہر مسلمان کا اپنے آپ کو گناہوں سے بچا نا ضروری ہے ، اسی طرح اپنے اہل خانہ اور دوسرے مسلمانوں کو بھی بقدر طاقت و توفیق ، حکمت عملی سے گناہوں سے روکنا لازم ہے ۔ نیز خود کے عمل میں کو تاہی اگر چہ صحیح نہیں، کہ یہ بھی اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے ، لیکن اس کو تا ہی کی وجہ سے دوسروں کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والے فریضہ سے سبکدوشی نہیں ملے گی، کیونکہ خود نیک کام کرنا اور گناہوں سے بچنا ایک واجب ہے اور…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.