Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قیام میں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہئے؟
Question
نماز میں قیام کی حالت میں دونوں پاؤں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز میں قیام کی حالت میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے ؟ بعض لوگ دونوں قدموں میں کافی فاصلہ رکھتے ہیں اور بعض کم فاصلہ رکھتے ہیں ۔ صحیح طریقہ کیا ہے ؟ رہنمائی فرما دیں ۔ جواب سائل : محمد احمد (اوکاڑہ)
Answer (beginning)
نماز ایک عظیم عبادت ہے ، اس میں بندہ اپنے رب عزوجل سے ہم کلام ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ نماز کو مؤمن کی معراج کہا گیا۔ شریعت مطہرہ نے اس عظیم عبادت کو حضور قلب اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے کی تعلیم دی ہے، نیز ہر رکن کو ادا کرنے کے لیے اس انداز کو بیان کیا جس میں زیادہ ادب پایا جاتا ہے ۔ چنانچہ حالت قیام میں دونوں قدموں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے ؟ اس حوالے سے فقہائے اخاف رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا کہ دونوں قدموں میں ہاتھ کی چار انگلیوں کی مقدار فاصلہ رکھنا سنت و مستحب کیونکہ اس طرح کھڑا ہونا ہی ادب اور خشوع کے زیادہ قریب ہے ، لہذا ہمیں اسی طریقے پر عمل کرنا چاہیے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.