Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اقامت کے بعد گفتگو کرنا کیسا؟
Question
اقامت اور تکبیر تحریمہ کے درمیان گفتو کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی مقتندی کو اقامت اور تکبیر تحریمہ کے درمیان کوئی بات کرنی ہو ، مثلا امام صاحب سے عرض کرنا کہ آپ اعلان کر دیں کہ آگے صفوں میں جگہ باقی ہے ، پہلے وہ مکمل کر لیں یا چھوٹے بچوں کو خاموش رہنے کی تاکید کرنا کہ دوران جماعت شور نہیں کرنا، توکیا اقامت کے بعد اس طرح کی گفتگو کرنے کی اجازت ہے ؟ سائل : نثار احمد جواب
Answer (beginning)
اقامت اور تکبیر تحریمہ کے درمیان بلاضرورت گفتگو کرنا مکروہ اور نا پسندیدہ ہے، البتہ اگر کسی دینی معاملے کے لیے بات کرنی ہو، مثلاً امام صاحب کو آگاہ کرنا کہ "انگلی صفوں میں خلا ہے ، اعلان کر دیں کہ پہلے اگلی صفیں مکمل کریں یا بہت چھوٹے بچوں کو سمجھا کر پچھلی صفوں میں بھیجا "یا "بچوں کو شور شرابا کرنے سے روکنا “ یا ساتھ کھڑے نمازی کو آداب نماز سے آگاہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے ، بلکہ اقامت ہو جانے کے بعد صفیں درست کرنے کا کہنا تو احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.