Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوسری جماعت کیلئے اقامت کہنا کیسا؟
Question
مسجد محلہ میں دوسری جماعت کے لیے اقامت کہنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ محلہ کی مسجد میں دوسری جماعت کے لیے اقامت کہی جائے گی یا نہیں ؟ رہنمائی فرما دیں جواب
Answer (beginning)
ہر عاقل، بالغ مسلمان پر مسجد کی جماعت اولیٰ کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے، بغیر عذر شرعی جماعت کو چھوڑ دینا ناجائز وگناہ ہے، احادیث میں جماعت چھوڑنے کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے ، ہاں ! اگر کچھ لوگ کسی عذر شرعی کی بناء پر جماعت سے رہ جائیں اور ان میں کوئی امامت کے لائق شخص موجود ہو، تو محراب سے ہٹ کر اپنی نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں ، مگر اذان کا اعادہ کیے بغیر کہ دوسری جماعت کے لیے اذان کا اعادہ جائز نہیں ہے ، البتہ دوسری جماعت کے لیے اقامت کہنے میں کوئی حرج نہیں، شرعاً جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.