Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احتیاطاً سجدہ سہو کرنے کی عادت ہو تو کیا حکم ہے؟

Question

احتیاطاً سجدہ سہو کرنے کی عادت بنا لینا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے ، اس کی عادت ہے کہ جب بھی صلوۃ التسبیح پڑھاتا ہے، تو ہمیشہ احتیاطا آخر میں سجدہ سہو کرتا ہے اور سجدہ سہو کا وہ پہلے سے بتا دیتا ہے کہ ہم احتیاطا آخر میں سجدہ سہو کریں گے ، خواہ نماز کا کوئی واجب ترک ہو یا نہ ہو، اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کا ایسا کرنا کیسا ہے ؟ زید ہمیشہ سجدہ سہو کا سلام درود پاک پڑھنے سے پہلے پھیر تا ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

شریعت کی رو سے نماز کے واجبات اصلیہ میں سے کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ، اذکار و تسبیحات میں کمی بیشی سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، نیز نماز میں سجدہ سہو واجب نہ ہو تو بلا ضرورت سجدہ سہو کرنا نماز میں زیادتی ہے اور شرعاً ممنوع ہے ، اور ایسا شخص احتیاطی سجدہ سہو کا سلام پھیرتے ہی نماز سے نکل جائے گا ، اسی لیے اگر کسی امام نے احتیاطی سجدہ سہو کیا اور مسبوق مقتدی (جس کی امام کے ساتھ تمام یا بعض رکعتیں رہ جائیں) نے بھی امام کے ساتھ احتیاطی سجدہ سہو کر لیا ، تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ، نیز جو شخص امام کے احتیاطی سجدہ سہو کرنے کے بعد اس کی اقتدا کرے گا تو اس کی نماز بھی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.