Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ڈاکٹر کو دوسرا خدا کہنا کیسا؟

Fatwa no.
882-FAM
Issued
18 ربیع الاول 1447ھ /12 ستمبر 2025ء

Question

ڈاکٹر کو دوسر ا خدا کہنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں اپنی امی سے کچھ بات کر رہا تھا تو میری امی نے ایک جملہ کہا کہ "ڈاکٹر دوسرا خدا ہے " (معاذ اللہ)، میں نے اپنی امی سے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے ، پھر میں نے اپنی امی جان کو تجدید ایمان کرایا ، تو اس سے میری امی جان دوبارہ مسلمان ہو گئیں یا کچھ اور بھی کرنا ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

معاذ اللہ عزوجل کفریہ جملہ کہنے پر آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ، اور اس پر فوراً اپنے کفر سے رجوع کرتے ہوئے ، تو بہ و تجدید ایمان کرنا لازم ہو تا ہے ۔ پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے اپنی والدہ کو ان کے کفر سے رجوع کرواتے ہوئے، تو بہ و تجدید ایمان کروا لیا، تو وہ دوبارہ مسلمان ہو گئیں ، مزید کسی چیز کی حاجت نہیں ۔ البتہ اگر آپ کے والد بقید حیات ہیں، تو تجدید نکاح بھی ضروری ہے اور کسی کی مرید ہیں ، تو نئے سرے سے بیعت بھی کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.