Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انڈا خراب نکلے تو کیا واپس کرسکتے ہیں؟

Question

انڈا خراب نکلا تو دکاندار کو واپس کر سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) . کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے دکان سے 6 انڈے خریدے ، گھر جاکر ان کو استعمال کیا، تو بقیہ انڈے تو ٹھیک نکلے، لیکن ان میں سے ایک انڈا خراب نکلا اور اس خراب انڈے سے کسی طرح فائدہ حاصل کرنا بھی ممکن نہیں، تو کیا یہ خراب انڈا دکاندار کو واپس کر کے اس کی قیمت لی جاسکتی ہے یا نہیں یعنی مشتری کو واپس کرنے کا اختیار حاصل ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں جو انڈا توڑنے کے بعد بالکل خراب نکلا، تو اس انڈے کی قیمت دکاندار سے واپس طلب کی جا سکتی ہے کہ بالکل خراب نکلنے والا انڈا ناقابل انتفاع ہونے کی وجہ سے مال متقوم (شر عاقیمتی مال) نہیں ہے اور جو چیز مالِ متقوم نہ ہو، اس کی بیع باطل ہوتی ہے یعنی اس چیز میں عقد بیع اصلاً منعقد ہی نہیں ہوتا اور ایسی صورت میں خریدنے والا، وہ چیز بیچنے والے کو واپس کر کے اس کی قیمت لے سکتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.