Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا گھر یا ہسپتال میں نرس کی جاب کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 924-FAM عالم الافيا اهلسنت
- Issued
- 15 ربع الاخر 1447 / 109اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
عورت کے لیے نرس کی جاب کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک بچوں کی نرس (pediatric nurse) ہوں ، کیا میں ہسپتال میں کام کر سکتی ہوں ؟ اس میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھار مریضوں کے گھروں میں جا کر علاج یا مدد کرنی پڑتی ہے ، مثلا اگر کسی بچے کو ایسا مرض ہو جس کی وجہ سے وہ معذور ہو جائے تو نرس اس کے گھر جا کر تھراپی یا نگہداشت کرتی ہے ۔ کیا ایک مسلمان نرس اس طرح کے حالات میں کام کر سکتی ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
عورت کا نوکری کرنا پانچ شرائط کے ساتھ جائز ہوتا ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں : یہاں پانچ شرطیں ہیں : (۱) کپڑے باریک نہ ہوں، جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چھکے ۔ (۲) کپڑے تنگ و چست نہ ہوں ، جو بدن کی بیات (یعنی سینے کا ابھار یا پنڈلی وغیرہ کی گولائی وغیرہ) ظاہر کریں ۔ (۳) بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہو تا ہو ۔ (۲) کبھی نا محرم کے ساتھ خفیف (معمولی سی) دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو ۔ (۵) اُس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ (فتنے کا گمان نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.