Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیلہ کر کے زکوٰۃ خود پر خرچ کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 894-FAM
- Issued
- 29 ربیع الاول 1446ء 23 ستمبر 2025ء
Question
حیلہ کر کے زکوۃ کی رقم خود پر خرچ کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ کسی شرعی فقیر کو دے ، پھر وہ فقیر اپنی طرف سے انہی پیسوں سے زکوۃ دینے والے کے درس نظامی یا کسی اور چیز کی فیس میں جمع کرائے ، تو کیا اس طرح کر سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
شرعی فقیر کو زکوۃ دینے سے اگر دینے والے کا اصل مقصد یہ ہو کہ زکوۃ فقیر کو دے کر بطور حیلہ اپنی ضرورت یا فیس وغیرہ میں خرچ کی جائے، تو یہ ناجائز حیلہ ہے، ایسا کرناحرام و گناہ ہے کہ یہ مقاصد شرع کے خلاف ہے ، اس میں زکواۃ کا مقصد فوت ہو جاتا ہے ، کیونکہ زکوۃ کی اصل حکمت یہ ہے کہ فقیر کی حاجت پوری کی جائے ، نہ کہ دینے والا خود اپنی ہی ضرورت پوری کرے ۔ اس طرح حیلہ بازی کر کے زکوۃ کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ فریب کرنا ہے ، اس کی ہر گز اجازت نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.