Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل فرض ہونے پر بغیر غسل کے روزہ رکھنا کیسا؟
Question
غسل فرض ہو تو غسل کیے بغیر روزہ رکھ سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی پر غسل فرض ہو تو اسے غسل کے بغیر روزہ رکھنا جائز ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
غسل فرض ہونے کی صورت میں غسل کرے بغیر بھی روزہ رکھنا شرعاً جائز ہے ، روزہ ہو جائے گا، کیونکہ غسل فرض ہونے کی حالت، روزہ رکھنے کے منافی (خلاف) نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے غسل کر لیا جائے ۔ اگر مکمل غسل ممکن نہ ہو، تو کم از کم غرغرہ اور ناک میں پانی کو نرم حصے سے آگے ناک کی جڑ تک پہنچانا ، یہ دونوں کام سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے کرلے کہ پھر روزے کی حالت میں نہیں ہو سکیں گے ۔ اگر کوئی شخص یہ بھی نہ کر سکے اور روزہ رکھ لے ، تو بھی مضائقہ نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.