Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے دوران حیض کا احساس ہو تو نماز ہو جائیگی؟
- Fatwa no.
- 896-FAM
Question
نماز میں حیض آنے کا گمان ہو تو اس نماز کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز کے دوران حیض کا احساس ہو ، لیکن یقین نہ ہو ، ایسی صورت میں نماز پڑھ لی ، تو کیا کرے ؟ جواب
Answer (beginning)
عورت حائضہ تب شمار ہوتی ہے ، جب خون حیض فرج خارج Outervagina) میں آجائے ، پس خون اترتا محسوس ہوا، مگر ابھی فرج داخل (Innervagina) ہی میں ہے ، فرج خارج میں ظاہر نہ ہوا، تو حائضہ نہیں، یوں ہی محض شک کا ہونا ، یقین کو زائل نہیں کرتا ، لہذا پوچھی گئی صورت میں نماز ہو گئی ، جبکہ نماز کے فوراً بعد دیکھنے پر خون دکھائی نہ دیا ہو کہ محض محسوس کرنا کافی نہیں، بلکہ خون کا نکلنا شرط ہے ۔ ہاں اگر خون دکھائی دیا اور یہ واضح ہے کہ جس وقت محسوس ہو رہا تھا ، اسی وقت خارج ہوا ہے، تو نماز نہ ہوئی ، پس اس صورت میں وقتی فرض نماز تھی ، تو معاف ہے ، اور نفل نماز تھی ، تو اس کی قضا لازم ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.