Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹھ کر یا لیٹ کر اونگھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
Question
اونگھ آنے سے وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بیٹھ کر یا لیٹ کر اونگھ آنے سے کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
نیند سے آنکھیں بند ہونے اور نیم غفلت کی کیفیت چھانے کو اونگھنا کہتے ہیں ، اگر اس میں آدمی اتنا ہوشیار رہے کہ آس پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں ، ان میں سے اکثر باتوں پر مطلع رہے، تو یہ ناقض وضو نہیں، لہذا بیٹھ کر اونگھ آئے یا لیٹ کر اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ، جبکہ اتنا ہوش و حواس قائم ہو۔ البتہ اگر اونگھ نیند میں بدل جائے ، یعنی کامل غفلت طاری ہو جائے ، تو نیند کے احکام جاری ہوں گے ، اگر چہ گہری نیند میں نہ گیا ہو، لہذا اس صورت میں اگر ایسی حالت پر بیٹھے ہوئے نیند طاری ہوئی کہ دونوں سرین زمین و غیرہ پر خوب جمے ہوئے نہ تھے ، تو وضو ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں، اور لیٹے ہونے کی صورت میں مطلقاً وضو ٹوٹ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.