Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرد کے لئے سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟
Question
سجدے میں زمین پر کلائیاں بچھانے کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کئی افراد کو دیکھا گیا ہے کہ سجدہ میں کلائیاں زمین پر بچھا دیتے ہیں ۔ پوچھنا یہ تھا کہ مرد کے لئے سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟ نیز سجدہ میں کلائیاں بچھا کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مرد کے لیے سجدہ کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ وہ سجدہ میں کہنیوں کو کروٹوں سے ، پیٹ کو رانوں سے اور پنڈلیوں کو زمین سے جدا ر کھے اور سجدے میں کلائیاں زمین پر بچھانا، ناجائز وگناہ ہے ، نیز اس طرح پڑھی گئی نماز بھی مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ، لہذا اگر کسی نے یوں نماز ادا کی ہو، تو وہ تو بہ کے ساتھ اس نماز کا اعادہ بھی کرے ۔ تنبیہ اباجماعت نماز میں کہنیاں اتنی کشادہ نہ کی جائیں کہ ساتھ والے نمازی کو تکلیف ہو، نیز مذکورہ حکم مردوں کے لیے ہے ، عورتیں سمٹ کر ہی سجدہ کریں گی، یعنی بازو کروٹوں سے ، پیٹ ران سے ، ران پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے ملا کر رکھیں گی، کیونکہ ان کے لیے اس طرح سجدہ کرنے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.