Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم کی چھینک کا جواب دینا کیسا؟

Fatwa no.
13740-Nor
Issued
13 رمضان المبارک 1446هـ / 14 مارچ 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

غیر مسلم کی چھینک کا جواب دینے کا طریقہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیر مسلم چھینک آنے پر حمد کہے ، تو کیا اُسے بھی جواب میں یر حمک اللہ" کہیں گے ؟ جواب

Answer (beginning)

کا فراگر چھینک آنے پر حمد کہے تو اسے جواب میں يَهْدِيكَ اللہ کہا جائے ۔ چنانچہ فتاوی شامی میں ہے : "إن كان العاطس كافرا فحمد الله تعالى يقول المشمت يَهْدِيكَ اللهُ "ترجمہ : اگر چھینکنے والا کا فر ہو اور وہ اللہ کی حمد بیان کرے تو سننے والا اُسے جواب میں "يَهْدِيكَ اللهُ " کہے یعنی الله عز وجل تجھے ہدایت دے ۔ " ( رد التختار مع الدر المختار، کتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، ج 09، ص 684، مطبوعہ کوئٹہ) بہار شریعت میں ہے : "کا فر کو چھینک آئی اور اس نے الْحَمْدُ لِلہ کہا تو جواب میں يَهْدِ یک اللہ کہا جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.